ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اقلیتوں کے لئے ملا جلا بجٹ،1500کروڑ روپے کا فنڈ دینے کا اعلان، 2.43لاکھ کروڑ روپیوں کے بجٹ میں اقلیتوں کو صرف0.6فیصد حصہ داری

اقلیتوں کے لئے ملا جلا بجٹ،1500کروڑ روپے کا فنڈ دینے کا اعلان، 2.43لاکھ کروڑ روپیوں کے بجٹ میں اقلیتوں کو صرف0.6فیصد حصہ داری

Tue, 09 Mar 2021 11:04:08    S.O. News Service

بنگلور،9؍مارچ (ایس او نیوز)رواں سال وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے اسمبلی میں جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں انہوں نے اقلیتوں کی ترقی کیلئے 1500 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی متعدد اقلیتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم میں کٹوتی بھی کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے جہاں مختلف سرکاری محکموں کیلئے مختص کئے جانے والے بجٹ کے اعداد کو مختلف سیکٹرس کی بنیاد پر پیش کر کے انہیں مبہم کردیا ہے۔ تاہم اقلیتی بہبود کے محکمہ کیلئے بجٹ میں جو فنڈس مہیا کروائے گئے ہیں ان کی تفصیلات کا جائزہ لینے پر یہ معلوم پڑتا ہے کہ بعض شعبوں میں فنڈس بڑھے ہیں تو دیگرکے فنڈس میں کٹوتی بھی کی گئی ہے۔ حج بھون کیلئے دئیے جانے والے فنڈس کو رواں سال کے بجٹ میں ختم کردیا گیا ہے سرکاری اقلیتی اسکولس کو تدریسی مواد حاصل کرنے کیلئے 5کروڑ روپے مہیا کروائے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلہ 2کروڑ زیادہ ہیں۔

اقلیتی طلباء کو دی جانے والی ترغیبات کیلئے گزشتہ سال 10کروڑ روپے مہیا کروائے گئے تھے اس سال اسے گھٹا کر 8کروڑروپے کردیا گیا ہے۔اقلیتی طلباء کو دی جانے والی اسکالر شپ کی رقم کو گھٹا کر 100کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ودیا شری اسکیم کے تحت ہاسٹل سے محروم اقلیتی طلباء کو امداد کی فراہمی کی رقم کو گزشتہ سال9.5کروڑ روپے رکھا گیا تھا اس بار اسے بڑھا کر25کروڑر وپے کردیا گیا ہے۔ مسابقتی امتحان میں حصہ لینے والے اقلیتی طلباء کی تربیت کیلئے 5کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔مدارس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے گزشتہ سال 5کروڑ کی رقم دی گئی تھی رواں سال اس میں اضافہ کر کے اسے 8کرو ڑ روپے کیا گیا ہے۔

کرناٹک اردو اکاڈمی کیلئے سابقہ سال کی مانند وہی عد د دہرایا گیا ہے جس کے مطابق اس کا گرانٹ ان ایڈ محض ایک لاکھ روپے کا ہے۔اقلیتوں کیلئے ہاسٹلوں اور مولانا آزاد اسکولو ں اور کالجوں کی دیکھ ریکھ کیلئے 23.40 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے 35کروڑروپے مہیا کروائے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلہ تقریباً8کروڑ روپے زیادہ ہیں۔اقلیتی زیارتی مقامات پر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے 2کروڑ روپے کا فنڈ گزشتہ سال کی طرح ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ اماموں اور مؤذنوں کو ماہانہ ہدیہ ادا کرنے کیلئے 55کروڑ روپے کی رقم دی گئی ہے گزشتہ سال بھی اتنی ہی رقم دی گئی تھی۔ ریاست کے 11کارپوریشنوں کی حدود میں اقلیتی جھونپڑ پٹیوں اورکالونیوں کو ترقی دینے کیلئے 200کروڑ روپے کی رقم مہیا کروائی گئی ہے۔ کے ایم ڈی سی میں سرمایہ کیلئے 20کروڑ روپے کی رقم دی گئی ہے اس میں گزشتہ سال کے مقابلہ 10کروڑ روپے کی کمی آئی ہے۔

اقلیتوں کیلئے ہاسٹل، اقامتی اسکول، اقلیتی دفتر کے کمپلیکس کی تعمیر کیلئے جملہ رقم 200کروڑ روپے مہیا کروائی گئی ہے۔ مسلم قبرستانوں کی دیکھ بھال کیلئے دئیے جانے والے گرانٹ کو ختم کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ 400اردو اسکولوں میں اردو کے ساتھ انگریزی میڈیم میں تعلیم دینے کا نظم کیا جائے گا۔گزشتہ سال وزیر اعلیٰ کی طرف سے اقلیتی فلاح کیلئے 1300کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا اس میں سے اب تک صرف 680کروڑ روپے کی رقم جاری ہوئی ہے۔ ریاست کی مجموعی طور پر خراب مالی حالت کے درمیان 1500 کروڑ روپیوں میں سے کتنی رقم جاری ہو گی اس کے بارے میں کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔

٭ اقلیتی طلباء کو دی جانے والی ترغیبات کے لئے گزشتہ سال 10کروڑ
٭ اسکالر شپ کی رقم کو گھٹا کر 100کروڑ روپے کردیا گیا
٭ مدارس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے گزشتہ سال 5کروڑ کی رقم
٭ اقلیتی جھونپڑ پٹیوں اورکالونیوں کو ترقی دینے کے لئے 200کروڑ
٭ کے ایم ڈی سی میں سرمایہ کے لئے 20کروڑ روپے
٭ مسلم قبرستانوں کی دیکھ بھال کا گرانٹ کو ختم


Share: